وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کیس میں وزیر اعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی روک دی

وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کیس میں توہین عدالت کی کارروائی روک دی، عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
وفاقی آئینی عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کیس میں توہین عدالت روکی

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی آئینی عدالت نے بدھ کے روز ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے سے اسلام آباد ہائی کورٹ کو روک دیا۔ عدالت نے ڈاکٹر عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے متعلقہ کیس کی سماعت بھی ملتوی کر دی اور تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے 21 جولائی کو وزیراعظم اور کابینہ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی اس بنیاد پر شروع کی تھی کہ حکومت نے امریکی عدالت میں قید نیورو سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں معاونت نہ کرنے کی وجوہات پیش نہیں کیں۔

چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے وفاقی حکومت کی اپیلوں کی سماعت کی، جن میں 16 مئی 2025 کے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ حکومت نے اپنی درخواست میں ترمیم کی اجازت اور سابقہ حکم کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی۔

وفاقی حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ مجوزہ ہدایات عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف ہیں اور کسی حتمی فیصلے کو دوبارہ کھولنا قانونی اصولوں کے منافی ہوگا۔ حکام نے کہا کہ یہ معاملہ خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی قانون سے بھی جڑا ہوا ہے۔

حکومت کے مطابق اکتوبر 2024 میں وزیراعظم نے امریکی صدر کو ڈاکٹر عافیہ کے لیے رحم کی اپیل کے حق میں خط لکھا تھا۔ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی امریکا بھیجا گیا تاکہ قیدیوں کے تبادلے کے امکانات پر بات کی جا سکے، تاہم امریکی حکام نے کسی انتظام پر اتفاق نہیں کیا۔

دیگر متعلقہ خبریں