چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں مقابلہ

این ویڈیا کو چین کی چپ ساز کمپنیوں سے شدید مقابلے کا سامنا ہے، جو مصنوعی ذہانت کے میدان میں بڑھتی ہوئی چیلنجز کی وجہ سے مارکیٹ میں مشکلات کا شکار ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں مقابلہ

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چین اور امریکہ کے درمیان مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں شدید مقابلہ جاری ہے، جس میں امریکی کمپنی این ویڈیا کو چینی حریفوں سے بڑھتی ہوئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ این ویڈیا، جو دنیا کی بڑی گرافک کارڈ بنانے والی کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے پچھلے سال 4 ٹریلین ڈالر کی مارکیٹ ویلیو عبور کی تھی، لیکن چین کی مقامی چپس نے ایشیائی مارکیٹ میں این ویڈیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

چینی کمپنیاں، جیسے ہواوے، علی بابا اور بائیدو، اپنی تیار کردہ چپس کے ذریعے این ویڈیا کو چیلنج کر رہی ہیں۔ این ویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے خبردار کیا ہے کہ چین کی ترقی کی رفتار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور وہ امریکی چپ ساز کمپنیوں سے صرف نانو سیکنڈز پیچھے ہیں۔ چین کی جانب سے این ویڈیا کی مصنوعات پر پابندیاں اور مقامی متبادل کے استعمال کی حوصلہ افزائی نے کمپنی کو چینی مارکیٹ میں مشکلات کا سامنا کر دیا ہے۔

چین کی جانب سے امریکی چپس پر انحصار کم کرنے کی کوششوں نے این ویڈیا کی ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ این ویڈیا کے چینی حریفوں کی جانب سے مارکیٹ میں تیزی سے داخل ہونے نے کمپنی کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں