حکومت نے 24 کھرب روپے وسائل حاصل کیے مگر معاشی نمو متاثر رہی۔ نجی شعبے کو قرض کی کمی اور غربت میں اضافہ ہوا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) گزشتہ ڈھائی برسوں میں حکومت نے نئے قرضوں اور آمدنی میں اضافے کے ذریعے 24 کھرب روپے سے زائد وسائل حاصل کیے، مگر معاشی سرگرمیوں میں خاطر خواہ تیزی نہیں آئی۔ ماہرین کے مطابق بینکوں سے بڑے پیمانے پر سرکاری قرضوں کے حصول کے باعث نجی شعبے کے لیے قرض کی دستیابی محدود رہی، جس سے معاشی نمو متاثر ہوئی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مالی سال 2024 میں حکومت نے بینکوں سے 8.519 کھرب روپے، مالی سال 2025 میں 5.434 کھرب روپے جبکہ رواں مالی سال 2026 کے ابتدائی 7 ماہ میں 2.1 کھرب روپے قرض لیا، جو کل 16 کھرب روپے بنتا ہے۔
اسی دوران حکومتی آمدن میں نمایاں اضافہ ہوا، جو دوگنا ہو کر تقریباً 18 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔ یہ اضافہ زیادہ ٹیکس وصولیوں، نئے ٹیکسز اور مرکزی بینک کی معاونت سے ممکن ہوا۔ تاہم، یہ وسائل معاشی نمو میں تبدیل نہ ہو سکے۔
بینکوں کی جانب سے حکومت کو قرض دینے کے نتیجے میں نجی شعبے کو مجموعی طور پر صرف 2.2 کھرب روپے کے قرض مل سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وسائل یا تو غیر پیداواری اخراجات میں صرف ہوئے یا مؤثر پالیسی کا تعین نہیں ہو سکا۔
مہنگائی کی شرح کم ہو کر 5.6 فیصد تک آ گئی ہے، مگر اسٹیٹ بینک شرح سود میں کمی کے لیے تیار نہیں۔ صنعت اور تجارت سے وابستہ حلقے شرح سود کو مہنگائی کے مطابق لانے کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ نجی شعبے کو زیادہ سرمایہ دستیاب ہو سکے۔
کمزور معاشی نمو کے باعث غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ملک کی تقریباً 46 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے غربت میں اضافے سے نمٹنے کے لیے کوئی جامع حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔















