پاکستان نے آئی ایم ایف کی پانچ شرائط میں سے تین پر عمل کر لیا، مگر ٹیکس نیٹ میں توسیع کا ہدف پورا نہ ہوا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کی گئی پانچ بڑی مالیاتی شرائط میں سے تین پر عمل درآمد کر لیا ہے۔ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ کے مطابق بلند شرح سود اور پیٹرولیم لیوی کی وصولیوں کے باعث یہ پیش رفت ممکن ہوئی، مگر ٹیکس نیٹ میں توسیع کا ہدف پورا نہ ہوا۔
حکومت نے مجموعی پرائمری بجٹ سرپلس، صوبائی کیش سرپلس اور صوبائی ٹیکس آمدن کے اہداف پورے کیے، مگر فیڈرل بورڈ آف ریونیو مجموعی ٹیکس وصولیوں اور ریٹیل سیکٹر سے انکم ٹیکس کے اہداف حاصل نہ کر سکا۔ ایف بی آر نے پہلی ششماہی کے نظرثانی شدہ ہدف سے 330 ارب روپے کم وصولی کی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریٹیلرز سے انکم ٹیکس وصولی کے لیے تبدیلی کے باوجود نتائج تسلی بخش نہیں رہے۔ تاجردوست اسکیم کی ناکامی کے بعد ریٹیل سیکٹر سے ٹیکس وصولیوں میں نمایاں کمی آئی۔
مالیاتی خلاصے کے مطابق وفاقی حکومت نے 4.1 کھرب روپے کا پرائمری سرپلس رپورٹ کیا، جو زیادہ تر اسٹیٹ بینک کے منافع اور پیٹرولیم لیوی وصولیوں کے باعث ممکن ہوا۔ چاروں صوبوں نے 1.18 کھرب روپے کا کیش سرپلس پیدا کیا، جو ہدف سے زیادہ ہے۔
پاکستان نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت 50 شرائط پر اتفاق کیا ہے، آئندہ قسط کا انحصار باقی مالیاتی اہداف کی تکمیل پر ہے۔















