بشریٰ بی بی کو تین ماہ بعد اہلخانہ سے ملنے کی اجازت دی گئی۔ ملاقات میں سیاسی گفتگو کی ممانعت تھی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو تقریباً تین ماہ کے وقفے کے بعد اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملنے کی اجازت دی گئی، جس میں ان کی بیٹی اور بھابھیاں شامل تھیں۔ ملاقات کی اجازت اس شرط پر دی گئی کہ اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔
یہ ملاقات بیرسٹر محمد علی سیف کی کوششوں سے ممکن ہوئی، جنہوں نے عمران خان اور ان کی اہلیہ کے لیے انسانی ہمدردی اور قانونی سہولت کاری کی کوششیں کیں۔ بشریٰ بی بی نے یہ اشارہ دیا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ سے معاملات میں نرمی کی گنجائش ہو سکتی ہے۔
ملاقات میں سیاسی گفتگو کی ممانعت تھی، اور رشتہ داروں کو سیاسی پیغام دینے یا لینے کی اجازت نہیں تھی۔ بشریٰ بی بی نے ذاتی شکایات کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف ان کے لیے مؤثر کوشش کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، اگر طے شدہ شرائط پر عمل ہوتا رہا تو مستقبل میں بشریٰ بی بی کی ایسی محدود ملاقاتوں کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ عمران خان کے معاملے میں کسی نرمی کے آثار نہیں ہیں، کیونکہ ان کے بیانات کے باعث پابندیاں سخت کر دی گئی ہیں۔















