تھر کول ریلوے منصوبہ، کوئلہ ترسیل اور گرین انرجی پالیسی میں تضاد پیدا کر رہا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں 90 ارب روپے کا تھر کول ریلوے منصوبہ پالیسی تضادات کی زد میں آ گیا ہے۔ یہ ریلوے لائن خاص طور پر تھر کے کوئلے کو پورٹ قاسم تک پہنچانے کے لیے بنائی جا رہی ہے، جبکہ اسی پورٹ کو گرین انرجی ہب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
وزارتِ بحری امور کے مطابق حکومت پورٹ قاسم کو موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ ایک صنعتی مرکز میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، جہاں گرین ہائیڈروجن اور ماحول دوست بحری ایندھن میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق کوئلے پر مبنی ریلوے لائن اور گرین منتقلی کا بیانیہ ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔
ماہرین نے انتباہ کیا ہے کہ اگر آئندہ 15 برس میں عالمی سطح پر کوئلے کا استعمال کم ہو گیا تو یہ ریلوے لائن اپنی لاگت پوری نہیں کر پائے گی، جس کے نتیجے میں قومی خزانے پر بوجھ بڑھنے کا خطرہ ہے۔
پورٹ قاسم اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق یہ منصوبہ فوری توانائی تحفظ کے لیے ناگزیر ہے اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے میں مدد دے گا۔ تاہم مستقبل میں کوئلے کی مانگ ختم ہونے کی صورت میں ریلوے کے متبادل استعمال سے متعلق کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا گیا۔
ماہرین نے منصوبے میں تاخیر، لاگت میں اضافے، زمین کے حصول، ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے خطرات کی نشاندہی بھی کی ہے۔ ان کے مطابق کوئلے کی ترسیل کے دوران فضا میں شامل ہونے والی دھول انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔















