شرح سود میں تھوڑی کمی کے باوجود گاڑیوں کی فنانسنگ میں اضافہ

پاکستان میں بینک قرضوں کے ذریعے گاڑیوں کی خریداری میں اضافہ ہو رہا ہے، حالانکہ شرح سود میں کمی کے باوجود اس کی فروخت بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
شرح سود میں کمی کے باوجود گاڑیوں کی فنانسنگ میں اضافہ

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)پاکستان میں گاڑیوں کے لیے بینک قرضوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، حالانکہ شرح سود میں تھوڑی کمی کے باوجود گاڑیوں کی فروخت بلند سطح پر پہنچ گئی ہے۔ معاشی جائزہ رپورٹ کے مطابق، آٹو قرضوں کی مجموعی مالیت ریکارڈ سطح کے قریب ہے۔

مالی سال 2022 کے بعد شرح سود میں تیز اضافے سے گاڑیوں کے قرضے متاثر ہوئے تھے، لیکن جون 2024 میں شرح سود میں کمی کے بعد آٹو قرضے دوبارہ بڑھنے لگے۔ نادہندگی کی شرح میں معمولی اضافہ ہوا، مگر یہ 2 فیصد سے کم رہی، جو بینکوں کی محتاط پالیسی کا نتیجہ ہے۔

تحقیق کے مطابق، سخت ریگولیٹری اقدامات کے باعث قرض کی مدت 7 سال سے کم ہو کر 5 سال کر دی گئی، اور ایڈوانس ادائیگی 15 فیصد سے بڑھا کر 30 فیصد کر دی گئی۔ ان اقدامات سے صارفین پر ماہانہ قسطوں کا بوجھ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ گاڑیوں کی قیمتیں زیادہ ہیں۔

بڑے ایس یو ویز اور لگژری گاڑیاں نقد خریدی جاتی ہیں، جبکہ بینک فنانسنگ میں اضافہ زیادہ تر درمیانی اور چھوٹی گاڑیوں میں دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، آٹو فنانسنگ میں حالیہ اضافہ زیادہ تر ضرورت کی بنیاد پر ہے، نہ کہ آسان قرضوں کی وجہ سے۔

دیگر متعلقہ خبریں