بلوچستان میں دہشت گردی پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن حکومت جماعتوں کا یکجہتی کا اظہار

قومی اسمبلی میں بلوچستان کے حالیہ دہشت گرد حملوں پر حکومت اور اپوزیشن نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ دفاعی وزیر نے بتایا کہ 177 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ اپوزیشن نے وسائل کی تقسیم پر تشویش ظاہر کی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بلوچستان میں دہشت گردی پر قومی اسمبلی میں اپوزیشن حکومت جماعتوں کا یکجہتی کا اظہار

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی میں بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کے لیے حکومت اور اپوزیشن کے اراکین نے غیر معمولی یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ایوان کی کارروائی ہوئی، جس میں بلوچستان کی صورتحال پر بحث کی گئی۔

دفاعی وزیر خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ حملوں کے بعد 177 دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ان حملوں میں 10 پولیس اہلکار، ایک لیویز اہلکار، 6 ایف سی جوان اور 33 شہری جان سے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی تقسیم اور منقسم قومی بیانیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کر رہا ہے۔

قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے دفاعی وزیر کے اعداد و شمار کو مسترد کرتے ہوئے وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کو دہشت گردی کا سبب قرار دیا۔ انہوں نے دو روزہ پارلیمانی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حصہ ہیں، مگر قومی سلامتی پر تصادم سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سرحدوں پر تعینات سیکیورٹی اہلکار قربانیاں دے رہے ہیں اور ان کی قربانیوں پر سوال اٹھانا قومی حوصلے کو متاثر کر سکتا ہے۔

یہ بحث ایوان میں مجموعی امن و امان کی صورتحال پر بحث کی قرارداد کی منظوری کے بعد شروع ہوئی، تاہم کارروائی کے اختتام پر اراکین کی کم تعداد نے اسمبلی کی سنجیدگی پر سوالات اٹھائے۔

دیگر متعلقہ خبریں