کراچی میں فیملی فیسٹیول میں خواتین کے زیرِ انتظام آن لائن کاروبار کو اجاگر کیا گیا، جہاں مختلف مصنوعات کے 29 اسٹالز پیش کیے گئے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) کراچی کے حبیٹ سٹی میں خواتین کے معاشی کردار کو اجاگر کرنے کے لیے ایک روزہ فیملی فیسٹیول منعقد ہوا۔ اس فیسٹیول میں خواتین کے زیرِ انتظام آن لائن کاروبار مرکزِ توجہ رہے۔
فیسٹیول میں 29 اسٹالز لگائے گئے تھے، جن پر کھانے پینے کی اشیا، ملبوسات، عطر، ہاتھ سے بنی جیولری اور دیگر دستکاریاں پیش کی گئیں۔ متعدد اسٹالز پر بہنیں مل کر کاروبار کر رہی تھیں، جبکہ کچھ جگہوں پر میاں بیوی نے ذمہ داریاں بانٹ رکھی تھیں۔
سترہ سالہ اے لیول کی طالبہ اسرا فیصل نے بتایا کہ ان کا ہاتھ سے بنی جیولری کا کاروبار شوق سے شروع ہوا۔ ان کے مطابق انہوں نے جیب خرچ سے سرمایہ کاری کی اور ابتدائی مرحلے میں سرمایہ سے دو سے تین گنا زیادہ منافع حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ آن لائن کاروبار خواتین کو اپنی صلاحیتیں پہچاننے اور خود مختاری حاصل کرنے کا موقع دیتا ہے۔
ریزن آرٹ اور ایکرائلک ہینڈ بیگز بنانے والی فضا حسین نے بتایا کہ انہوں نے اور ان کی بہن نے چند ماہ قبل مشترکہ طور پر آن لائن کاروبار شروع کیا۔ ان کے مطابق ایک بیگ تیار کرنے میں دو سے تین دن لگتے ہیں اور مارکیٹ سروے بھی ضروری ہوتا ہے، تاہم محنت کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
ہاتھ سے بنی فِزی فلاور مصنوعات بنانے والی ماہیّن نے کہا کہ ان کے کاروبار میں سب سے بڑا تعاون خاندان، خصوصاً ساس کی جانب سے ملا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے یہ ہنر سیکھا اور اکتوبر میں کاروبار شروع کیا، جس کے بعد مختصر وقت میں آرڈرز ملنا شروع ہو گئے۔
فیسٹیول کے منتظم افضل جاوید کے مطابق اس تقریب کا مقصد ہنرمند خواتین کو پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا، جہاں وہ اپنی تخلیقات عوام کے سامنے پیش کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہر اسٹال خواتین خود چلا رہی تھیں، جبکہ مرد اہلِ خانہ معاون کردار ادا کر رہے تھے۔















