امریکہ نے بھارت کی روسی تیل خریداری روکنے پر بھارتی مصنوعات پر ٹیرف کم کر دیا، جو باہمی تجارت میں اضافہ کرے گا۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے روسی تیل کی خریداری بند کرنے کی یقین دہانی کے بعد بھارتی مصنوعات پر امریکی ٹیرف میں نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ہونے والی براہِ راست گفت و شنید کے بعد کیا گیا۔
امریکی اعلان کے مطابق بھارتی مصنوعات پر عائد ٹیرف فوری طور پر 50 فیصد سے کم ہو کر 18 فیصد رہ گیا ہے، جس میں وہ اضافی 25 فیصد ٹیرف بھی شامل تھا جو اگست میں روسی تیل کی خریداری پر دباؤ ڈالنے کے لیے نافذ کیا گیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اضافی ٹیرف مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا جبکہ باہمی یا نام نہاد ریسی پروکل ٹیرف میں بھی کمی کی جائے گی۔
اس پیش رفت کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر سے بات چیت پر انہیں خوشی ہوئی ہے اور “میڈ اِن انڈیا” مصنوعات پر کم ٹیرف کا فیصلہ 1.4 ارب بھارتی عوام کے مفاد میں ہے۔ وزیراعظم مودی کے مطابق دو بڑی معیشتوں اور دنیا کی بڑی جمہوریتوں کے درمیان تعاون سے عوام کو فائدہ اور باہمی شراکت داری کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے اپنے پیغام میں صدر ٹرمپ کی قیادت کو عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے اہم قرار دیا اور کہا کہ بھارت امن کے لیے ان کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے تعلقات کو غیر معمولی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
ماہرین کے مطابق بھارت اس وقت روزانہ تقریباً 1.5 ملین بیرل روسی تیل درآمد کر رہا ہے، جو اس کی مجموعی تیل درآمدات کے ایک تہائی سے زیادہ حصے پر مشتمل ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق بھارت نے روسی خام تیل کے بجائے وینزویلا اور امریکا سے تیل خریدنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روسی تیل عالمی منڈی کے مقابلے میں فی بیرل تقریباً 16 ڈالر سستا رہا ہے، جس کے باعث بھارت کے لیے اس سے دستبرداری مشکل تھی۔ تاہم حالیہ مہینوں میں عالمی تیل قیمتوں میں کمی کے بعد یہ فرق کم ہوا ہے، جس سے بھارت کے لیے متبادل ذرائع اختیار کرنا نسبتاً آسان ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارت نے امریکی مصنوعات پر اپنے ٹیرف صفر کرنے، غیر ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے اور امریکا میں سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاہدے کو بھارت امریکا تجارتی تعلقات میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔












