پاکستان کا بھارت کے خلاف کرکٹ میچ نہ کھیلنا بھارتی براڈکاسٹرز اور آئی سی سی کو کتنا مہنگا پڑے گا؟

پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا، جس سے عالمی کرکٹ کی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان کا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ، کرکٹ معیشت متاثر

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)پاکستان نے آئی سی سی ٹی20 ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد عالمی کرکٹ میں مالی اور انتظامی سطح پر ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس فیصلے کے اثرات صرف کھیل تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ براہِ راست براڈکاسٹنگ، اشتہارات اور عالمی کرکٹ ریونیو پر پڑیں گے۔

کرکٹ تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک میچ عالمی کرکٹ کی سب سے بڑی کمرشل پراپرٹی سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مقابلہ صرف کھیل نہیں بلکہ ایک مکمل معاشی ماڈل ہے، جس سے براڈکاسٹرز اور اسپانسرز کو خطیر آمدن حاصل ہوتی ہے۔

ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک میچ کی مجموعی مالی ویلیو تقریباً 1 ارب 13 کروڑ ڈالر بنتی ہے۔ اس رقم میں اشتہارات، ڈیجیٹل سبسکرپشن، اسپانسرشپ اور عالمی براڈکاسٹ رائٹس شامل ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ میچ آئی سی سی ٹورنامنٹس کی کمرشل بنیاد بن چکا ہے۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں پاکستان اور بھارت کے میچ کے دوران صرف 10 سیکنڈ کے اشتہاری سلاٹ کی قیمت تقریباً 18 ہزار 750 ڈالر تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ ایک مکمل میچ کے دوران کمرشل ایئر ٹائم سے ایک چینل 50 لاکھ ڈالر سے زائد کما لیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک میچ میں 30 سے 50 ملین ڈالر تک اضافی اسپانسرشپ اور دیگر آمدن بھی حاصل ہوتی ہے۔

اس فیصلے سے سب سے بڑا نقصان ان عالمی براڈکاسٹنگ اداروں کو ہونے کا خدشہ ہے جنہوں نے آئی سی سی ٹورنامنٹس کے حقوق اربوں ڈالر میں خرید رکھے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ڈزنی اسٹار نے 2024 سے 2027 کے آئی سی سی ایونٹس کے بھارتی میڈیا رائٹس کے لیے 3 ارب ڈالر سے زائد کی ڈیل کی تھی، جس میں پاکستان اور بھارت کے میچز کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان مقابلہ نہیں ہوتا تو آئی سی سی کے مجموعی ریونیو ماڈل میں نمایاں خلا پیدا ہو جائے گا۔ اندازوں کے مطابق کسی بھی بڑے آئی سی سی ایونٹ کی کمرشل ویلیو کا تقریباً 40 فیصد حصہ انہی میچز سے منسلک ہوتا ہے، جس کے باعث براڈکاسٹرز اور اسپانسرز کو اربوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ڈاکٹر نعمان نیاز کے مطابق پاکستان کا یہ فیصلہ اصولی مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان نے دباؤ قبول کیا تو مستقبل میں بھی اسے اسی طرح کے حالات کا سامنا رہے گا، جبکہ پاکستان کی عدم موجودگی میں ورلڈ کپ جیسے ایونٹس کی ویورشپ اور مارکیٹ ویلیو میں واضح کمی آ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان کی جگہ کسی اور ٹیم کو شامل بھی کیا جاتا ہے تو وہ پاکستان جیسی براڈکاسٹ مارکیٹ اور تقریباً 25 کروڑ شائقین کی ویورشپ فراہم نہیں کر سکتی۔ اسی لیے عالمی براڈکاسٹرز اس فیصلے کو ایک غیر معمولی اور غیر متوقع مالی چیلنج کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ اگر پاکستان نے بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلنے کی پالیسی برقرار رکھی تو آنے والی چیمپئنز ٹرافی اور دیگر آئی سی سی ایونٹس کے شیڈول، ریونیو شیئر اور انتظامی توازن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے بعد آئی سی سی کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا پڑ سکتی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں