فرانس نے بچوں کے دودھ میں زہریلے مادے کی موجودگی پر سخت قوانین نافذ کیے ہیں، حالیہ مہینوں میں کئی کمپنیوں نے دودھ کی مصنوعات واپس منگوائی ہیں۔
پیرس: (رائیٹ ناوٴ نیوز) فرانس نے بچوں کے دودھ میں زہریلے مادے سیریولیڈ کی موجودگی پر سخت قوانین نافذ کر دیے ہیں۔ یہ اقدام اس وقت اٹھایا گیا جب ممکنہ آلودہ مصنوعات 60 سے زائد ممالک سے واپس منگوائی گئیں۔
فرانسیسی حکام کے مطابق سیریولیڈ متلی، قے اور اسہال جیسی علامات پیدا کر سکتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں کئی کمپنیوں نے احتیاطاً اپنے دودھ کے بیچ واپس منگوائے، جس نے عالمی سطح پر غذائی تحفظ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
دسمبر اور جنوری میں فرانس میں دو بچوں کی اموات کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوا، تاہم دودھ اور بیماری کے درمیان براہِ راست تعلق ثابت نہیں ہو سکا۔ نئی پابندیوں کے تحت سیریولیڈ کی حد 0.014 مائیکروگرام فی کلوگرام مقرر کی گئی ہے۔
تحقیقات کے دوران شبہ چین کے ایک سپلائر پر بھی ظاہر کیا گیا ہے۔ یورپی کمیشن نے یورپی فوڈ سیفٹی اتھارٹی سے باضابطہ معیار طے کرنے کی درخواست کی ہے، جبکہ نیسلے، ڈینون اور لیکٹالِس نے بھی مصنوعات واپس منگوا لی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق یورپ میں ہر سال تقریباً 2 کروڑ 30 لاکھ افراد آلودہ خوراک سے متاثر ہوتے ہیں اور تقریباً 4 ہزار 700 افراد کی اموات ہوتی ہیں۔















