ایران کی بحری مشقوں کے باعث آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت دوبارہ عالمی توجہ کا مرکز بنی ہے، جو تیل اور گیس کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
ایران کی آئندہ بحری مشقوں کے پیش نظر آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ خلیج فارس کے دہانے پر واقع ہے اور خلیج عمان کے ذریعے کھلے سمندروں سے جڑی ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی بڑی بحری تجارتی گزرگاہوں میں شامل ہے اور بین الاقوامی آبی راستہ تصور کی جاتی ہے جہاں سے تمام ممالک کے جہازوں کو گزرنے کا حق حاصل ہے۔
یہ راستہ تاریخی طور پر ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان تجارت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا رہا ہے اور جدید دور میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔
اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں پائپ لائنیں موجود ہیں، تاہم امریکی توانائی معلوماتی ادارہ کے مطابق زیادہ تر توانائی ترسیل کا کوئی متبادل راستہ نہیں۔
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل اور گیس کی بڑی مقدار ایشیائی منڈیوں کا رخ کرتی ہے اور اس آبی راستے کو لاحق خطرات عالمی توانائی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔












