لاہور میں بسنت کی بحالی کے دوران انتظامی مشکلات اور تنازعات نے جشن کو مشکل بنا دیا ہے، پتنگوں کی قلت اور حکومتی بیانات میں تضاد مسائل پیدا کر رہے ہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور میں بسنت کی واپسی کی تیاریاں جاری ہیں، مگر انتظامی مشکلات اور تنازعات نے جشن کو مشکل بنا دیا ہے۔ پتنگوں اور ڈور کی قلت، اجازت ناموں میں تاخیر اور حکومتی بیانات میں تضاد نے بسنت کے موقع پر مسائل پیدا کر دیے ہیں۔
پتنگوں، ڈور اور پھرکیوں کی محدود فراہمی اور لائسنس یافتہ دکانداروں کے لیے آن لائن پرمٹ سسٹم کی عدم فعالیت سے سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ کائٹ فلائنگ ایسوسی ایشن نے قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
پنجاب حکومت نے بسنت کے دوران گانوں پر پابندی کی وضاحت کی ہے کہ یہ صرف اسٹیج ڈراموں پر ہے۔ تاہم، بعض پولیس افسران نے دفعہ 188 کے تحت کارروائی کا عندیہ دیا، مگر بعد میں حکومتی وضاحت کے بعد اپنی بات واپس لے لی۔
بسنت کی بحالی پر سیاسی اختلافات بھی موجود ہیں، جہاں لاہور تک محدود رکھنے پر تنقید کی گئی ہے۔ سابق نگران وزیرِ اعلیٰ حسن عسکری رضوی نے امتیازی عمل قرار دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر 12 نکاتی ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا ہے، جس کے تحت غیر محفوظ مقامات پر پتنگ بازی پر پابندی ہوگی۔ عوامی سہولت کے لیے مفت ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی دی جائے گی۔














