یورپی یونین اور بھارت کا تجارتی معاہدہ پاکستانی برآمدات، خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے کے لیے مسابقتی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) یورپی یونین اور بھارت کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ پاکستان کی برآمدات، خاص طور پر ٹیکسٹائل شعبے کے لیے مسابقتی دباؤ کا باعث بن رہا ہے۔
پاکستان اس وقت جی ایس پی پلس کے تحت یورپی یونین کو تقریباً 80 فیصد برآمدات ڈیوٹی فری بھیج رہا ہے. یورپی منڈی میں بھارتی مصنوعات پر 8 سے 12 فیصد ٹیرف ہونے کے باوجود بھارت کی ٹیکسٹائل برآمدات 5.6 ارب ڈالر ہیں۔
معاہدے کے بعد بھارت کو زیرو ٹیرف رسائی ملنے پر پاکستان کی موجودہ ٹیرف برتری ختم ہو جائے گی، جس سے پاکستانی مصنوعات کی قیمتوں اور مسابقت پر اثر پڑے گا۔
بھارت کی ویلیو ایڈیشن، مربوط سپلائی چین اور مضبوط لاجسٹکس کے باعث یورپی منڈی میں پہلے سے مضبوط پوزیشن ہے، ٹیرف برابری کے بعد یہ برتری مزید بڑھ سکتی ہے۔
پاکستان کو جی ایس پی پلس کے تحت انسانی حقوق اور مزدور قوانین پر عملدرآمد کی رپورٹنگ کرنا ہوتی ہے، جبکہ بھارت کے معاہدے میں ایسی شرائط شامل نہیں ہیں۔
توانائی کی بلند قیمتیں اور مہنگی فنانسنگ کی وجہ سے پاکستانی برآمدی شعبہ مزید دباؤ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات روزگار اور صنعتی پیداوار پر بھی پڑ سکتے ہیں۔














