قومی اسمبلی کمیٹی کے اجلاس میں آلو کی قیمتوں میں کمی اور برآمدی مسائل پر غور کیا گیا، کسانوں کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سیکیورٹی کا اجلاس چیئرمین حسین طارق کی سربراہی میں منعقد ہوا، جس میں آلو کی پیداوار، قیمتوں میں کمی اور کسانوں کے نقصانات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
سابق رکن اسمبلی راؤ محمد اجمل نے بتایا کہ آلو اس سال اوسطاً 8 روپے فی کلو فروخت ہوا، جبکہ کاشتکار کو فی کلو لاگت 25 روپے برداشت کرنا پڑی۔ کسان مالی دباؤ کا شکار ہیں اور نقصانات بڑھتے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ آلو کی فصل کی بوائی 15 دسمبر کو ہوتی ہے اور 15 مارچ تک فصل ختم ہو جاتی ہے۔ راؤ اجمل کے مطابق صرف ضلع اوکاڑہ میں آلو کی فصل کو تقریباً 30 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 15 دن بعد آلو سڑکوں اور کھیتوں میں پڑا ہوگا۔
راؤ اجمل نے بتایا کہ قازقستان اور وسطی ایشیا کے لیے برآمدی راستے بند ہیں، جبکہ ایران کے راستے بھی موجودہ حالات کے باعث مؤثر نہیں رہے۔ لاہور سے تافتان تک ترسیل میں وقت لگتا ہے اور آگے مزید 3 دن درکار ہوتے ہیں۔ ٹرک ڈرائیوروں کے پاس ویزے نہ ہونے کی وجہ سے سامان دوسرے ٹرکوں میں منتقل کرنا پڑتا ہے، جس سے تاخیر اور لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کے لیے آلو کی ترسیل جو پہلے 7 سے 8 دن میں مکمل ہو جاتی تھی، اب 20 سے 25 دن لگ رہے ہیں، جس سے آلو خراب ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے اور مجموعی اخراجات تین گنا تک پہنچ چکے ہیں۔ راؤ اجمل نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے میں این ایل سی کو شامل کیا جائے کیونکہ ان کے ڈرائیوروں کے پاس پاسپورٹ موجود ہوتے ہیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال ملائیشیا کو 2 لاکھ آلو کے تھیلے برآمد ہوئے تھے، جبکہ اس سال کوئی برآمد نہیں ہو سکی۔ اسی طرح سری لنکا کو گزشتہ سال ایک لاکھ تک تھیلے گئے تھے۔ این اے آر سی حکام کے مطابق گزشتہ سال 2 لاکھ تھیلے برآمد ہوئے جبکہ اس سال صرف 66 ہزار گئے، تاہم راؤ اجمل نے ان اعدادوشمار کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال مجموعی طور پر 74 لاکھ تھیلے برآمد ہوئے تھے، جبکہ رواں سال چند لاکھ تک محدود رہ گئے ہیں۔
کمیٹی چیئرمین نے کہا کہ کسانوں کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے اور اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ یہ معاملہ وزیراعظم تک پہنچایا جائے گا۔














