قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ثقافت و ورثہ کے اجلاس میں قائداعظم اور علامہ اقبال پر ڈرامہ سیریز کی تیاری سمیت دیگر ثقافتی منصوبوں پر غور کیا گیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی ثقافت و ورثہ کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ثقافتی و تاریخی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں حکومت کے جانب سے قائداعظم اور علامہ اقبال کی زندگی پر ارطغرل طرز کی ڈرامہ سیریز بنانے کا اعلان کیا گیا، جس کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اجلاس میں عالمی مجسمہ نمائش کی تیاریوں اور قومی ورثہ کے حوالے سے سندھ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کی فعالیت پر بھی بحث ہوئی۔ قائمہ کمیٹی نے طلبہ کو پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے مطالعاتی دورے کرانے کی ہدایت دی۔
علامہ اقبال اکیڈمی کے ڈائریکٹر نے آگاہ کیا کہ اقبال کے نواسوں اور پوتوں کے انٹرویوز کا سلسلہ جاری ہے جو فروری کے آخر تک مکمل ہو جائے گا۔ کمیٹی نے علامہ اقبال کے خاندان سے ملاقات کا بھی فیصلہ کیا۔
اجلاس میں شکرپڑیاں کے قریب قومی عجائب گھر کی تعمیر پر غور ہوا، جس کے لیے زمین حاصل کر لی گئی ہے، لیکن فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث منصوبہ موخر ہو گیا ہے۔ کمیٹی نے فنڈز کے لیے وزیراعظم کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔
لوک ورثہ کے ترمیمی بل 2025 کی منظوری دی گئی، تاکہ قواعد بنانے کی طاقت لوک ورثہ کے بورڈ کو دی جا سکے۔ اجلاس میں ڈسکہ کے گوردوارے کی بحالی پر بھی غور ہوا، جبکہ متروکہ وقف املاک بورڈ نے مالی بحران کی شکایت کی۔
ایف بی آر کی جانب سے بورڈ کے دو ارب روپے لے جانے کا معاملہ حساس قرار دیا گیا، اور کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں ان کیمرہ بریفنگ لینے کا فیصلہ کیا۔















