پاکستان نے اقوام متحدہ میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر بھارت کو سخت جواب دیا، عاصم افتخار احمد نے بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان نے اقوام متحدہ میں کہا ہے کہ وہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کی دھمکیوں کے باوجود اپنے زرخیز میدانوں کو بنجر بننے کی اجازت نہیں دے گا۔
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے، جس سے لاکھوں افراد کی زندگی اور روزگار خطرے میں پڑ سکتے ہیں اور خطے کے امن کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
Statement by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad,
Permanent Representative of Pakistan,
At the High-Level Open Debate of UN Security Council on "Reaffirming International Rule of Law: Pathways to Reinvigorating Peace, Justice, and Multilateralism”
(26 January 2026)
*****Mr.… pic.twitter.com/HBMoHXHdLg
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) January 26, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل کو ہتھیار بنانے کو مسترد کرتا ہے اور معاہدوں کی پاسداری کو بین الاقوامی قانونی نظام کی بنیاد سمجھتا ہے۔
پاکستان کے نمائندے ظلفقار علی نے بھارت کی کارروائی کو آبی دہشت گردی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان اس اشتعال انگیزی کا اسی عزم کے ساتھ جواب دے گا جس طرح گزشتہ برس بھارتی جارحیت کا مقابلہ کیا گیا تھا۔
بھارت کے مندوب پرواتھنینی ہریش نے دعویٰ کیا کہ معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان مبینہ سرحد پار دہشت گردی کی حمایت ختم نہیں کرتا، تاہم پاکستانی مندوب نے ان دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیا۔











