یورپی یونین نے ایران میں احتجاجی مظاہروں پر کریک ڈاؤن کے جواب میں پاسدارانِ انقلاب پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
برسلز: (رائیٹ ناوٴ نیوز)یورپی یونین ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران کریک ڈاؤن کے تناظر میں پاسدارانِ انقلاب کے اعلیٰ ارکان کے خلاف پابندیاں عائد کرنے پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ پابندیوں میں اثاثے منجمد کرنے اور سفری پابندیاں شامل ہوں گی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یورپی یونین کے وزرائے خارجہ جمعرات کو برسلز میں ہونے والے اجلاس کے دوران 21 افراد اور اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز پر مشاورت کریں گے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے سینئر افسران بھی شامل ہیں۔
یورپی یونین کے اندر پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی تجویز پر بھی زور دیا جا رہا ہے، جس کی اٹلی نے حمایت کا اظہار کیا ہے اور دیگر رکن ممالک سے مشترکہ مؤقف اپنانے پر زور دیا ہے۔
ایران نے مجوزہ یورپی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہوگا۔
اسی تناظر میں ایران نے اٹلی کے سفیر کو طلب کر کے مجوزہ پابندیوں اور یورپی تجاویز پر احتجاج کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔











