ایرانی وزارتِ خارجہ نے مظاہروں میں خاتون کی ہلاکت کی خبر کو جھوٹا ثابت کیا۔ نویا زیون نے ویڈیو میں اپنی زندگی کی تصدیق کی۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران میں پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک خاتون کی مبینہ ہلاکت کی خبر کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس خاتون کو ہلاک دکھایا گیا وہ زندہ اور محفوظ مقام پر ہیں۔
ترجمان کے مطابق، اسرائیلی میڈیا چینل نے ایک خاتون نویا زیون کی تصویر نشر کی اور دعویٰ کیا کہ وہ ایران میں احتجاجات کے دوران ہلاک ہوئیں۔ لیکن بعد میں خود نویا زیون نے ایک ویڈیو جاری کر کے اس دعوے کی تردید کی۔
Not much strange! A woman, Noya (Noa) Zion, was supposedly 'killed' in Iran's protests—according to Israeli Channel 12, which broadcast her photo as proof.
Shocked (and very much alive), she posted video evidence: safe at home, never visited Iran.How convenient: when every fake… pic.twitter.com/2I4xZb0tyj
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) January 27, 2026
نویا زیون نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ اپنے گھر میں محفوظ ہیں، کبھی ایران نہیں گئیں اور نہ ہی کسی احتجاجی واقعے میں شامل رہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ خبر ان کے لیے حیران کن تھی اور حقیقت سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔
اسماعیل بقائی نے اس واقعے کو ایران کے خلاف منظم غلط معلومات کی مہم کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ جعلی کردار تراش کر انہیں بعد از مرگ استعمال کرنا سنگین پروپیگنڈا کی مثال ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی خبریں علاقائی کشیدگی کو بڑھاوا دینے کی کوشش ہیں۔











