آئی ایم ایف کا 3.2 فیصد ترقیاتی ہدف حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے، برآمدات، سرمایہ کاری اور زرعی شعبہ دباؤ کا شکار ہیں۔
لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ملکی معیشت کے اہم اشاریوں پر دباؤ کے باعث رواں مالی سال کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے مقررہ 3.2 فیصد شرح نمو کے حصول پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ برآمدات، سرمایہ کاری اور زرعی شعبہ بدستور دباؤ کا شکار ہیں، حالانکہ افراط زر میں کمی اور بیرونی کھاتوں میں عارضی استحکام دیکھا جا رہا ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق ایگزیکٹو کمیٹی رکن مدثر مسعود چوہدری نے کہا کہ برآمدات اور سرمایہ کاری مسلسل دباؤ میں ہیں، جس کا براہ راست اثر مجموعی معاشی کارکردگی پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں شرح نمو 2.5 سے 3 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، بشرطیکہ کوئی بڑا اندرونی یا بیرونی جھٹکا نہ آئے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025-26 کی پہلی ششماہی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 43 فیصد کمی کے بعد 808 ملین ڈالر تک محدود رہی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 1.425 ارب ڈالر تھی۔ اسی دوران برآمدات 8.7 فیصد کمی کے بعد 15.18 ارب ڈالر رہیں، جبکہ درآمدات 11.28 فیصد اضافے سے 34.4 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
زرعی شعبے سے وابستہ تاجر میاں بلال حنیف کا کہنا ہے کہ کاغذی استحکام کاروباری اعتماد میں تبدیل نہیں ہو رہا۔ ان کے مطابق بلند توانائی اخراجات، غیر یقینی ٹیکس پالیسی اور کمزور طلب کے باعث صنعتی یونٹس جزوی صلاحیت پر کام کر رہے ہیں۔














