بھارتی حکومت کو خطرہ،مسئلہ کشمیر عالمی بورڈ آف پیس میں زیرِبحث آ سکتا ہے

بھارت نے امن بورڈ میں شرکت نہیں کی، کشمیر تنازع پر ممکنہ عالمی توجہ کے باعث تشویش پائی جاتی ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بھارت کی امن بورڈ میں شمولیت پر کشمیر تنازع کی تشویش

نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ ’بورڈ آف پیس‘ کے چارٹر پر دستخط کی تقریب میں بھارت کی عدم شرکت نے سفارتی سطح پر تشویش کو جنم دے دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق نئی دہلی کی اس غیر حاضری کو کشمیر کے تنازع پر ممکنہ عالمی توجہ کے خدشے سے جوڑا جا رہا ہے۔

تقریب میں 20 عالمی رہنماؤں نے شرکت کی، تاہم بھارت نے خود کو اس عمل سے الگ رکھا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت کو اندیشہ ہے کہ اس فورم میں شمولیت کی صورت میں مقبوضہ کشمیر کا معاملہ بین الاقوامی سطح پر دوبارہ زیر بحث آ سکتا ہے، جس کی وہ مسلسل مخالفت کرتا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی کشمیر تنازع پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں، جسے بھارت نے مسترد کر دیا تھا۔ موجودہ پیش رفت کو اسی پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں بھارت کسی بھی ایسے بین الاقوامی پلیٹ فارم سے گریز کر رہا ہے جو کشمیر کے معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کر سکتا ہو۔

یہ بورڈ ایسے وقت میں تشکیل دیا گیا ہے جب امریکہ اقوام متحدہ کے بعض اداروں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ اس صورتحال نے سفارتی حلقوں میں یہ سوال بھی پیدا کر دیا ہے کہ آیا ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا مقصد عالمی تنازعات کے حل میں اقوام متحدہ کے کردار کو محدود کرنا ہے۔

سابق بھارتی سفیر نے خبردار کیا ہے کہ اس بورڈ کی مدت، دائرہ کار اور اختیارات واضح نہیں ہیں، اور اگر اس ماڈل کو مستقبل میں دیگر علاقائی تنازعات تک توسیع دی گئی تو بھارت کو پیچیدہ سفارتی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں