فرانس کی وزیر دفاع نے ایران میں فوجی مداخلت کو ترجیح نہ دی، ایرانی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق دیا۔
پیرس: (رائیٹ ناوٴ نیوز) فرانس کی وزیر دفاع ایلس روفو نے کہا ہے کہ ایران میں فوجی مداخلت فرانس کی ترجیح نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے اور بیرونی طاقتوں کو یہ فیصلہ مسلط نہیں کرنا چاہیے۔
ایلس روفو نے ایران میں انٹرنیٹ کی طویل بندش پر تشویش کا اظہار کیا، جس کے باعث مظاہرین کے خلاف ہونے والے مبینہ سنگین جرائم کی آزادانہ تصدیق مشکل ہو گئی ہے۔ ایران کی 90 ملین سے زائد آبادی 8 جنوری سے بڑی حد تک انٹرنیٹ سے کٹی ہوئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کریک ڈاؤن میں ہلاکتوں کی تعداد ہزاروں میں ہے، جبکہ ناروے میں قائم این جی او ایران ہیومن رائٹس کے مطابق مجموعی ہلاکتیں 25 ہزار تک پہنچ سکتی ہیں۔ دوسری جانب ایران کی حکومت ہلاکتوں کی تعداد 3,117 بتاتی ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ ایران میں مظاہرے 28 دسمبر کو مہنگائی اور معاشی مسائل کے خلاف شروع ہوئے تھے جو مذہبی نظام کے خاتمے کے مطالبات میں بدل گئے۔











