امریکی فضائیہ نے مشرق وسطیٰ میں جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے، جس کا مقصد ایران سے بڑھتی کشیدگی کے دوران فضائی طاقت کا مظاہرہ کرنا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی فضائیہ نے مشرق وسطیٰ میں کثیر روزہ جنگی تیاریوں کی مشق شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد خطے میں فضائی طاقت کی تعیناتی اور تسلسل برقرار رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرنا ہے۔ یہ اعلان ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔
امریکی فضائیہ کے مرکزی کمان کے تحت یو ایس ایئر فورسز سینٹرل کے مطابق یہ مشق جارحیت کو روکنے، غلط اندازوں کے خطرے کو کم کرنے اور شراکت دار ممالک کو یقین دہانی کرانے کے لیے کی جا رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام ‘طاقت کے ذریعے امن’ کے تصور کو تقویت دیتا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب ایران میں حالیہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد کی ہلاکت اور بڑی تعداد میں گرفتاریوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران نے مظاہرین کے خلاف مزید سخت اقدامات یا بڑے پیمانے پر سزائے موت دی تو امریکا فوجی کارروائی پر غور کر سکتا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت ہو رہی ہے جب طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ہمراہ جنگی جہاز خطے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق یہ تعیناتی ‘احتیاطاً’ کی جا رہی ہے۔
امریکی سینٹرل کمان نے تصدیق کی ہے کہ ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے اب مشرق وسطیٰ میں موجود ہیں، جو جنگی تیاری بڑھانے اور علاقائی سلامتی کے فروغ میں مدد دیتے ہیں۔ برطانوی وزارت دفاع نے بھی قطر میں ٹائفون لڑاکا طیارے دفاعی مقصد کے تحت تعینات کیے ہیں۔











