ایرانی چیف جسٹس نے مظاہروں کے ذمہ داروں کو سخت سزا دینے کا اعلان کیا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہی ہیں۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
ایران کے چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجئی نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں کے ذمہ داروں کو بغیر نرمی کے سزا دینے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام توقع کرتے ہیں کہ تشدد میں ملوث افراد کے مقدمات جلد نمٹائے جائیں۔
سرکاری عدالتی ویب پورٹل کے مطابق، محسنی ایجئی نے تحقیقات میں سختی برتنے کا کہا جبکہ اسلحہ استعمال کرنے، ہلاکتیں کرنے اور آتش زنی و تباہی پھیلانے والوں کو قانون کے مطابق سزا دینے کا عندیہ دیا۔
یہ مظاہرے مہنگائی اور قیمتوں کے خلاف شروع ہوئے تھے، مگر بعد میں ایک وسیع احتجاجی تحریک میں تبدیل ہو گئے۔ حکومت کے کریک ڈاؤن اور انٹرنیٹ بندش کے بعد مظاہرے ختم ہو گئے، جس کے نتیجے میں ملک کا بیرونی دنیا سے رابطہ محدود ہو گیا۔
ایرانی حکومت کے مطابق مظاہروں کے دوران 3,117 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 2,427 کو “شہید” قرار دیا گیا۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 25 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
ایران دنیا میں چین کے بعد سزائے موت دینے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جس کے باعث گرفتاریوں اور سخت سزاؤں کے اعلانات پر خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران نے مظاہرین کو سزائے موت دی تو امریکہ فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ احتیاطاً ایران کے قریب ایک بڑا بحری بیڑا بھیج رہا ہے۔











