روس اور چین میں بیک وقت کئی سورج نظر آنے کی حقیقت

روس کے سخالین میں بیک وقت دو سورج کا منظر قدرتی نوری مظہر ‘سن ڈاگ’ کا نتیجہ ہے، ماہرین نے دینی تشریح کو مسترد کیا۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
روس اور چین میں بیک وقت کئی سورج نظر آنے کی حقیقت

ماسکو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) روس کے علاقے سخالین میں بیک وقت دو سورج طلوع ہونے کی ویڈیو نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی جبکہ چین میں بھی اسی نوعیت کے مظاہر پہلے دیکھے گئے ہیں۔

ماہرین فلکیات اور موسمیات کے مطابق یہ مظاہر ‘سن ڈاگ’ یا ‘پارہیلین’ کہلاتے ہیں، جو قدرتی نوری مظاہر ہیں۔ یہ اس وقت ظاہر ہوتے ہیں جب فضا میں موجود برف کے ننھے کرسٹلز سورج کی روشنی کو مخصوص زاویے پر منعکس کرتے ہیں۔

علمائے کرام نے واضح کیا کہ دینی تعلیمات کے مطابق قیامت کی نشانی کے طور پر سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا ذکر ہے، لیکن بیک وقت کئی سورج کا ذکر نہیں۔

ماہرین کے مطابق سن ڈاگ کا زمین کی درجہ حرارت سے کوئی تعلق نہیں اور یہ دنیا کے کسی بھی خطے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ چین میں بھی ایسے مظاہر کی رپورٹس سامنے آچکی ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں