کیاٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بورڈ آف پیس میں شامل کر سکتے ہیں؟

بھارت کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بورڈ آف پیس میں شامل کر سکتے ہیں، جو اسرائیل حماس جنگ بندی کے لیے بنایا گیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
کیاٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بورڈ آف پیس میں شامل کر سکتے ہیں؟

نئی دہلی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارت کو خدشہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسئلہ کشمیر کو بورڈ آف پیس میں شامل کر سکتے ہیں۔ امریکی صدر نے غزہ میں تعمیر نو کے لیے بھارت کو بورڈ آف پیس میں دعوت دی، تاہم بھارت کی شرکت ابھی واضح نہیں۔

غزہ بورڈ آف پیس کا مقصد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کو قائم کرنا ہے۔ بورڈ میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت 59 ممالک نے شمولیت اختیار کی ہے۔

بھارتی سفارت کاروں کے مطابق بھارت کو بورڈ آف پیس میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی قراردادوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔ سابق سفیر رنجیت رائے کا کہنا ہے کہ بورڈ کی مدت مقرر نہیں اور اسے دیگر مقامات پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ بورڈ آف پیس دنیا کے بااثر رہنماؤں کا فورم ہے اور اس نے مختلف جنگیں روکنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں