ڈونلڈ ٹرمپ کشمیر کے مسئلے کو بورڈ آف پیس میں زیر بحث لانے کا عندیہ دیا ہے، جس سے بھارت میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ میں امن کے لیے 20 نکاتی فارمولے کے بعد اب کشمیر کے مسئلے کو بورڈ آف پیس میں زیر بحث لانے کا عندیہ دیا ہے، جس سے بھارت میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے منعقدہ بورڈ آف پیس کی تقریب میں شرکت نہیں کی تھی، جبکہ پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بورڈ کی رکنیت قبول کر لی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کے اس فیصلہ کا مغربی ایشیا میں استحکام اور امریکہ کے تعلقات پر اثر ہو سکتا ہے، جبکہ کشمیر کو بورڈ میں لانے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
سابق بھارتی سفارتکار اکبر الدین کا کہنا ہے کہ بھارت کو بورڈ میں شامل نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ اقوام متحدہ کی قرارداد 2803 سے متصادم ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ غزہ میں امن کے اقدامات اور بورڈ کی سرگرمیاں بھارت کے لیے سفارتی اور سیاسی چیلنجز پیدا کر سکتی ہیں، جبکہ پاکستان اور دیگر ممالک اپنے موقف کو مضبوط کرنے کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔











