اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور وسائل کی بندش کے باعث فلسطینی گاؤں راس عین العوجا تقریباً خالی ہو چکا ہے۔
وادیٔ اردن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) مقبوضہ مغربی کنارے کے گاؤں راس عین العوجا میں اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد اور وسائل کی بندش کے باعث فلسطینی باشندے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ آبادکار گھروں کو آگ لگانے کی دھمکیاں دیتے ہیں، جس کے باعث لوگ اپنے گھر اور زمین چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
یہ گاؤں یروشلم گورنریٹ کے زیر انتظام بدو چرواہوں کی آخری بڑی آبادیوں میں سے ایک تھا، لیکن زیادہ تر خاندان اب نقل مکانی کر چکے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ان کی بھیڑ بکریاں زہر دے کر ماری گئیں یا چوری ہو گئیں۔ گاؤں کا قدرتی چشمہ گزشتہ ایک سال سے آبادکاروں نے بند کر رکھا ہے۔
نائف غوانمہ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے 650 میں سے تقریباً 450 فلسطینی باشندے اپنا آبائی علاقہ چھوڑ چکے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق مقبوضہ علاقوں میں آبادکاری غیر قانونی ہے، مگر اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد مغربی کنارے میں بڑھ کر تقریباً 700 ہزار ہو چکی ہے۔
انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق 2022 کے بعد سے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں غیر قانونی بستیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اوچا کے مطابق 2025 میں مغربی کنارے میں 1800 سے زائد آبادکار حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سیکڑوں فلسطینی برادریاں متاثر ہوئیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ دو برس سے مسلسل نفسیاتی دباؤ، حملوں کا خوف اور معاش کے ذرائع ختم ہونے کے بعد گاؤں میں رہنا ممکن نہیں رہا۔ زیادہ تر خاندان مغربی کنارے کے ایریا اے کے شہروں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں، جہاں بدو طرزِ زندگی کا تسلسل ممکن نہیں۔











