لاہور میں پتنگ بازی کے خلاف 5915 مقدمات درج

لاہور پولیس نے 2024 سے 2026 کے دوران پتنگ بازی کے خلاف 5915 مقدمات درج کیے۔ 5270 افراد گرفتار جبکہ 90 ہزار پتنگیں ضبط کی گئیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
لاہور میں پتنگ بازی کے خلاف 5915 مقدمات درج

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور پولیس نے انکشاف کیا ہے کہ 2024 سے 2026 کے دوران شہر میں پتنگ بازی کے خلاف مجموعی طور پر 5915 مقدمات درج کیے گئے۔ یہ تفصیلات پولیس کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں سامنے آئیں۔

رپورٹ کے مطابق 2024 میں سب سے زیادہ 3534 مقدمات درج کیے گئے۔ 2025 کے دوران 1918 مقدمات سامنے آئے، جن میں پتنگ بازی سے جڑا ایک ہلاکت کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا۔ 2026 میں اب تک 463 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

پولیس حکام کے مطابق تین برس کے دوران پتنگ بازی میں ملوث 5270 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اسی عرصے میں پتنگ سے متعلق زخمی ہونے کے 10 واقعات 2024 میں، 2 واقعات 2025 میں جبکہ 2026 میں کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کارروائیوں کے دوران 90 ہزار سے زائد پتنگیں اور 5 ہزار سے زیادہ کیمیائی اور دھاتی ڈوریں برآمد کر کے ضبط کی گئیں، جنہیں انسانی جان کے لیے خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ پولیس نے خبردار کیا ہے کہ پتنگ بازی کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھا جائے گا۔

دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ پتنگ بازی ایکٹ 2025 آئین میں درج بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔ یہ درخواست لاہور کینٹ میں پتنگ کی ڈور سے ایک شہری کی ہلاکت کے واقعے کے بعد دائر کی گئی۔

درخواست میں پنجاب حکومت، لاہور پولیس کے سربراہ اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا اور بسنت کو عوامی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ عدالت سے مطالبہ کیا گیا کہ کیمیائی ڈوروں پر مکمل پابندی عائد کی جائے، ان کی تیاری اور فروخت میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی جائے اور غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

واضح رہے کہ درخواست میں گزشتہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے متاثرین کے لیے معاوضہ پالیسی بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے، جن میں گزشتہ اکتوبر نواں کوٹ میں دھاتی ڈور سے جاں بحق ہونے والے 21 سالہ یوسف منیر کا واقعہ شامل ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں