ایرانی اسپیکر نے کہا کہ حالیہ دہشت گردانہ ہنگاموں میں اسرائیل کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ صیہونی حکومت کی کارروائیاں ناکام ہوگئیں۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران میں حالیہ دہشت گردانہ ہنگاموں کے دوران اسرائیل کو زیادہ ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت نے ایران کے مختلف شہروں میں منظم اور بیک وقت کارروائیاں کیں، تاہم 48 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ناکامی ہوئی۔
قالیباف نے اسلامی انقلاب گارڈز کور کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکی-اسرائیلی جنگ اور حالیہ ہنگاموں کے دوران فورسز نے مؤثر کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق بیرونی حمایت یافتہ عناصر نے داعش کے طرز پر کارروائیاں کیں۔
قالیباف نے الزام لگایا کہ یہ عناصر اسرائیل، امریکا اور ان کے اتحادیوں کی تربیت یافتہ ٹیمیں تھیں۔ یہ کارروائیاں اسی طرز پر کی گئیں جیسے ستمبر 2024 میں لبنان میں پیجر حملے کیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ 17 ستمبر 2024 کو لبنان اور شام میں حزب اللہ سے منسوب وائرلیس آلات پھٹنے سے کم از کم 12 افراد ہلاک اور تقریباً 3000 زخمی ہوئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ اسرائیل نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ حالیہ بے امنی ایران کے دشمنوں کی انتقامی کارروائی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ماہ مہنگائی اور معاشی مشکلات کے باعث تاجروں کے پرامن احتجاج ہوئے، جنہیں بعد ازاں شرپسند عناصر نے نقصان دہ سرگرمیوں میں بدل دیا۔
ایران کی فاؤنڈیشن آف مارٹرز اینڈ ویٹرنز افیئرز کے مطابق ہنگاموں کے دوران مجموعی طور پر 3117 افراد جان سے گئے، جن میں 2427 عام شہری اور سکیورٹی اہلکار شامل تھے۔ حکام کے مطابق بعض عناصر کو امریکی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کی مدد حاصل تھی۔












