ابھے دیول نے گھٹنوں کے درد کے لیے اسٹیم سیل تھراپی کا تجربہ کیا، جو قدرتی اور محفوظ محسوس ہوا۔
ممبئی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بھارتی اداکار ابھے دیول نے اپنے گھٹنوں کے درد کے علاج کے لیے اسٹیم سیل تھراپی کا تجربہ شیئر کیا ہے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر بتایا کہ وہ سلپ ڈسک اور سائیٹیکا کی تکالیف سے دوچار تھے اور سرجری سے بچنے کے لیے جنوبی کوریا کے کلینک میں اسٹیم سیل تھراپی کروائی۔
ابھے دیول کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ قدرتی اور محفوظ محسوس ہوا کیونکہ اس میں انہی کے اپنے خلیات استعمال کیے گئے۔ مزید برآں، ان کے اسٹیم سیلز کو مستقبل میں استعمال کے لیے محفوظ کر لیا گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق اسٹیم سیل تھراپی، جسے ری جنریٹو میڈیسن بھی کہا جاتا ہے، جسم کے خاص خلیات کو استعمال کرتی ہے جو متاثرہ ٹشوز کی مرمت میں مدد دیتے ہیں۔ اسٹیم سیلز اپنی نقل بنانے اور مختلف اقسام کے خلیات میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
تحقیقات کے مطابق اسٹیم سیل تھراپی اعصابی درد، کمر درد اور اوسٹیو آرتھرائٹس جیسے امراض میں فائدہ مند ثابت ہو رہی ہے۔ تاہم، ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نجی کلینکس میں پیش کی جانے والی کئی تھراپیز غیر منظور شدہ ہیں اور ان کے اثرات کی کوئی ضمانت نہیں۔















