اسلام آباد: ایمان مزاری نے متنازع ٹوئٹ کیس میں عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے جج پر الزامات عائد کیے اور عدالت سے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونے کی درخواست منظور ہوئی۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) متنازع ٹوئٹ کیس میں ایمان مزاری نے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا اور جج پر الزامات عائد کیے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹوئٹ کیس کی سماعت ہوئی، جس کی صدارت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کی۔ جج نے ایس ایس پی آپریشن اور ڈپٹی ڈائریکٹر این سی سی آئی کو ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔
پولیس نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر 5 سے 6 گھنٹے کا وقت درکار ہے، لہٰذا ملزمان کو بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی اجازت دی جائے، جسے عدالت نے منظور کر لیا۔
دوران سماعت ایمان مزاری نے جج پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنی نوکری کر رہے ہیں اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کمرۂ عدالت چھوڑ دیا۔ راولپنڈی میں وکلا نے بھی ایمان مزاری کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال کی۔














