رفح سرحد سے فلسطینیوں کی روانگی کی اجازت پر اسرائیل کا منصوبہ زیر غور ہے، تاہم سرحد کھولنے کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی۔
یروشلم: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسرائیل نے رفح سرحدی گزرگاہ سے غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد محدود کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو باہر جانے کی اجازت دینے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ تجویز آئندہ ہفتے رفح سرحد کے دوبارہ کھلنے سے قبل زیر غور ہے۔
غزہ کے عبوری انتظام کے لیے امریکا کی حمایت یافتہ فلسطینی کمیٹی کے سربراہ نے اعلان کیا کہ رفح بارڈر کراسنگ آئندہ ہفتے کھولی جائے گی۔ سرحد غزہ کے مکینوں کے لیے واحد راستہ ہے جس کے ذریعے وہ غزہ میں داخل یا باہر جا سکتے ہیں۔
رفح کراسنگ 2024 سے اسرائیلی فوج کے کنٹرول میں ہے اور یہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی کے تحت کھلنی تھی۔ تاہم، واشنگٹن نے اعلان کیا کہ منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ میں داخل ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد پر پابندی کیسے لگائے گا یہ واضح نہیں ہے۔ اسرائیلی حکام نے ماضی میں غزہ سے فلسطینیوں کی ہجرت کی بات کی ہے، تاہم وہ زبردستی آبادی کی منتقلی کے ارادے کی تردید کرتے آئے ہیں۔
توقع ہے کہ رفح کراسنگ پر فلسطینی اتھارٹی کا عملہ تعینات ہوگا جبکہ یورپی یونین کے اہلکار نگرانی کریں گے۔ اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ سرحد کھولنے کا حتمی فیصلہ حکومت کرے گی اور اسرائیلی منظوری کے بغیر کسی کو داخل یا نکلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔












