ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے امریکی بحریہ کا بیڑا مشرق وسطیٰ روانہ کر دیا۔ ایران میں مظاہروں پر کریک ڈاؤن میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکی دہراتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ امریکی بحریہ کا ایک بڑا بیڑا مشرق وسطیٰ کی جانب روانہ ہو چکا ہے۔
امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کی جانب اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ شروع کر دیا ہے، جس میں ایک طیارہ بردار بحری جہاز، جنگی بحری جہاز اور ہزاروں فوجی شامل ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق یہ اقدامات ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا آپشن کھلا رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ ایک بڑا بحری بیڑا خطے کی جانب بھیج رہا ہے اور یہ قدم احتیاطی بنیادوں پر اٹھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ صورتحال کشیدگی کی طرف جائے، تاہم ایران کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔
امریکی بحریہ کے ایک اہلکار کے مطابق طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ موجود تین جنگی بحری جہاز رواں ہفتے جنوبی بحیرہ چین سے روانہ ہو کر مغرب کی جانب بڑھ گئے ہیں اور اس وقت بحرِ ہند میں موجود ہیں۔ خطے میں پہنچنے پر یہ بحری بیڑا بحرین میں موجود امریکی بحری جہازوں اور خلیج فارس میں گشت کرنے والے دیگر امریکی ڈسٹرائرز کے ساتھ شامل ہو جائے گا۔
اس طیارہ بردار بیڑے کی آمد سے تقریباً 5,700 اضافی امریکی فوجی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات ہو جائیں گے۔ امریکہ کے خطے میں کئی فوجی اڈے موجود ہیں، جن میں قطر کا العدید ایئر بیس بھی شامل ہے، جہاں ہزاروں امریکی فوجی تعینات ہیں اور یہ امریکی سینٹرل کمانڈ کا مرکزی اڈہ بھی ہے۔
حالیہ نقل و حرکت اس پالیسی کے برعکس ہے جس کے تحت گزشتہ مہینوں میں امریکہ نے کچھ فوجی وسائل مشرقِ وسطیٰ سے کیریبین منتقل کیے تھے۔ اس سے قبل یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اور یو ایس ایس نیمٹز بھی خطے سے واپس بلائے جا چکے تھے۔
اس کے علاوہ امریکی فضائیہ کے ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل جنگی طیاروں کی بھی مشرقِ وسطیٰ میں موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ طیارے جنگی تیاری کو بہتر بنانے اور علاقائی سلامتی کے فروغ میں مدد فراہم کریں گے۔ برطانیہ نے بھی دفاعی نوعیت کے تحت اپنے ٹائیفون جنگی طیارے قطر تعینات کیے ہیں۔
دوسری جانب ایران میں دسمبر کے آخر سے جاری احتجاجی مظاہروں کے بعد صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق کریک ڈاؤن کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 5,032 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 27,600 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ایرانی حکومت کے مطابق ہلاکتوں کی سرکاری تعداد 3,117 ہے۔
ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ گرفتار افراد کے خلاف تیز رفتار عدالتی کارروائیاں اور سزائیں دی جا سکتی ہیں، جبکہ امریکہ یا اسرائیل کی مداخلت کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔












