پاکستان میں 6 لاکھ سے زائد جعلی ڈاکٹر عوامی صحت کے لیے خطرہ بن چکے ہیں، جن کی غیر قانونی سرگرمیاں مریضوں کی جان کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
حیدرآباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)
پاکستان میں جعلی اور غیر مستند ڈاکٹروں کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ افراد بغیر اجازت اور تربیت کے مریضوں کا علاج کر رہے ہیں، جس سے مریضوں کی جان کو خطرہ لاحق ہے۔
سندھ کے علاقے ٹنڈو سعید خان میں ایک غیر رجسٹرڈ کلینک میں عبد الواحد نامی شخص خود کو ڈاکٹر ظاہر کر کے مریضوں کا علاج کرتا ہے۔ کلینک میں کوئی قانونی اجازت نامہ یا رجسٹریشن نمبر نہیں ہے اور وہ فی مریض 300 روپے فیس وصول کرتا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل عبدالغفور شورو کے مطابق جعلی ڈاکٹروں کی غیر قانونی سرگرمیاں، ادویات کی غلط مقدار اور طبی آلات کے غیر محفوظ استعمال سے مریضوں کو ہیپاٹائٹس اور ایڈز جیسے امراض کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔
سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے سربراہ احسن قوی صدیقی نے تسلیم کیا کہ اس مسئلے کے حل میں شدید مشکلات درپیش ہیں، کیونکہ محدود وسائل اور کمزور قوانین کی وجہ سے یہ دھندا جاری ہے۔
جعلی ڈاکٹروں کی سرگرمیاں نہ صرف انسانی جانوں کے لیے خطرناک ہیں بلکہ متاثرہ خاندانوں کو مالی اور جسمانی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔















