پاکستان بار کونسل کے ارکان کی وکلا کی گرفتاری پر مذمت

پاکستان بار کونسل کے ارکان نے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری پر سخت مذمت کرتے ہوئے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستان بار کونسل کے ارکان کی وکلا کی گرفتاری پر مذمت

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان بار کونسل کے آٹھ منتخب ارکان نے وکلا ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کی سخت مذمت کی ہے۔ ارکان نے کہا ہے کہ یہ گرفتاریاں ریاستی جبر کے متاثرین کی پیشہ ورانہ نمائندگی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز بلند کرنے پر کی گئیں۔

بیان میں کہا گیا کہ جب اعلیٰ افسران پریس کانفرنسوں کے ذریعے بیانات دیتے ہیں، خود کو خفیہ اداروں کے قریب ظاہر کرنے والے صحافی سزا کا عندیہ دیتے ہیں، اور ٹوئٹس کی اشاعت پر دہشت گردی کے مقدمات قائم کیے جاتے ہیں، تو یہ انصاف کے بنیادی اصولوں کی نفی ہے۔

ارکان نے مزید کہا کہ جانبدارانہ عدالتی کارروائیاں، من گھڑت ایف آئی آرز، وکلا کو بار رومز میں پناہ لینے پر مجبور کرنا اور نقاب پوش اہلکاروں کے ہاتھوں سڑکوں سے گرفتاریوں کے واقعات ریاست کی قانون کی حکمرانی ترک کرنے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ان حالات میں عدلیہ یا تو اس جبر میں شریک ہے یا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جو تشویش ناک ہے۔

آخر میں مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اور وکلا کی تمام تنظیمیں انسانی حقوق کے محافظوں کے خلاف کارروائیوں کی دوٹوک مذمت کریں اور ہر فورم پر ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔ بیان پر عابد زبیری، شفقت محمود چوہان، قاضی محمد ارشد، منیر اے خان کاکڑ، سلمان اکرم راجہ، صلاح الدین احمد، عبدالستار خان اور محمد مقصود بٹر کے دستخط موجود ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں