مولانا فضل الرحمان نے قومی اسمبلی میں حکومت کی امن بورڈ میں شمولیت پر تنقید کرتے ہوئے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر سوال اٹھایا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی امن بورڈ میں شمولیت پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ دھمکیوں سے شروع ہونے والا فورم امن قائم نہیں کر سکتا اور حکومت نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں ایک بت کو راضی کرنے لگے ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو تقویت دے رہا ہے اور حماس کو کھلی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے خطے میں امن کے امکانات مزید کم ہو رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے حکومت کی پالیسیوں کو ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیلی حمایت سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات مزید کم ہو رہے ہیں اور اسرائیل کے ایران پر ممکنہ حملے کے بعد اثرات پاکستان کی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ افغانستان، عراق اور لیبیا کی تباہی سب کے سامنے ہے اور اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو تافتان بارڈر پر صورتحال خطرناک ہو سکتی ہے۔
آخر میں مولانا فضل الرحمان نے نواز شریف اور شہباز شریف کی غلامی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے نہ کابینہ کو اعتماد میں لیا اور نہ ہی پارلیمنٹ کو، اور اگر وہ جنرل مشرف کے خلاف نکل سکتے تھے تو موجودہ حکومت کے خلاف بھی نکل سکتے ہیں۔












