ذیابیطس کے مریضوں کے لیے چکن یا مٹن: کون بہتر؟

ذیابیطس کے مریضوں کو چکن یا مٹن کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔ چکن کو نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، تاہم مٹن کو محدود مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے چکن یا مٹن: کون بہتر؟

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ذیابیطس کے مریضوں کے لیے غذا کا درست انتخاب نہایت اہم ہوتا ہے، کیونکہ یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کا مکمل علاج ممکن نہیں۔ متوازن غذا اور درست طرز زندگی کے ذریعے اسے مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق شوگر کے مریضوں کو چکن یا مٹن کے انتخاب میں احتیاط برتنی چاہیے۔ مٹن کو ریڈ میٹ سمجھا جاتا ہے، جس میں آئرن، زنک اور وٹامن بی 12 وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں، مگر اس میں سیر شدہ چکنائی بھی زیادہ ہوتی ہے۔

ریڈ میٹ کا زیادہ استعمال انسولین ریزسٹنس بڑھا سکتا ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بھی پیدا کر سکتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کو مٹن بالکل ترک نہیں کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے مگر اسے محدود مقدار میں استعمال کرنا چاہیے۔

چکن کو ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ پروٹین سے بھرپور اور چکنائی میں کم ہوتا ہے، جس سے بلڈ شوگر میں اچانک اضافہ نہیں ہوتا۔ ڈاکٹرز کے مطابق چکن کو مناسب مقدار میں روزمرہ غذا کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

غذا کے انتخاب کے ساتھ ساتھ اسے پکانے کا طریقہ بھی اہم ہے۔ زیادہ تیل میں تلی ہوئی یا مکھن، گھی اور کریم سے بھرپور کھانے نقصان دہ ہو سکتے ہیں، جبکہ اُبلا ہوا، گرل کیا ہوا یا ہلکے مصالحوں کے ساتھ پکایا گیا چکن زیادہ بہتر انتخاب ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر مریض کی جسمانی حالت اور شوگر لیول مختلف ہو سکتا ہے، اس لیے غذائی انتخاب میں اعتدال اور توازن کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی بڑی تبدیلی سے قبل ڈاکٹر یا نیوٹریشنسٹ سے مشورہ کریں۔

دیگر متعلقہ خبریں