پاکستان میں 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے، اقتصادی دباؤ اور عدم مساوات اہم وجوہات ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) حالیہ ورلڈ بینک رپورٹ 2025 کے مطابق، پاکستان میں 45 فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، جو اقتصادی دباؤ اور معاشی عدم مساوات میں اضافے کا مظہر ہے۔
ورلڈ بینک غربت کو بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ناکامی کے طور پر بیان کرتا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق غربت زندگی کے کم از کم معیار کے حصول میں کمیابی کی حالت ہے۔ دونوں ادارے غربت کو افراد کی فلاح کے لیے محدود تصور کرتے ہیں۔
پاکستان میں غربت کی بنیادی وجوہات میں طویل مدتی اقتصادی دباؤ، سماجی عدم مساوات، معیاری تعلیم کی کمی، آبادی کی تیز رفتار بڑھوتری، اور سیاسی عدم استحکام شامل ہیں۔ یہ عوامل گھریلو آمدنی کو متاثر کرتے ہیں اور بہتر زندگی کے مواقع کم کرتے ہیں۔
پاکستانی حکومت نے غربت کم کرنے کے لیے احساس پروگرام، خوراک اور صحت کی سبسڈی، اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔ ان کا مقصد کمزور گروہوں کی مدد کرنا اور بنیادی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔
غربت کم کرنے کے لیے حکومت کو نوجوانوں اور خواتین کے لیے ہنر کی تربیت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ دیہی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، اور زرعی پیداوار میں اضافہ بھی غربت کے خاتمے میں مددگار ہو سکتا ہے۔















