پاکستانی کاروباری لاگت میں 34 فیصد اضافہ، صنعتوں کو خطرہ

پاکستانی کاروباری لاگت میں 34 فیصد اضافہ ہونے سے صنعتوں کو عالمی مسابقت میں مشکلات کا سامنا ہے۔ کاروباری لاگت میں اضافے کی بنیادی وجوہات غیر متوازن ٹیکس نظام، بجلی اور گیس کے بلند نرخ، اور کرنسی میں عدم استحکام ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پاکستانی کاروباری لاگت میں 34 فیصد اضافہ، صنعتوں کو خطرہ

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستانی کاروباری برادری کو مسابقت کے بحران کا سامنا ہے کیونکہ ملک میں کاروبار کرنے کی لاگت علاقائی معیشتوں کے مقابلے میں 34 فیصد زیادہ ہے۔ اس صورتحال کے باعث مقامی صنعتیں عالمی منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہیں۔

پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہا ہے کہ کاروباری لاگت میں اضافے کی بنیادی وجوہات غیر متوازن ٹیکس نظام، بجلی اور گیس کے بلند نرخ، اور کرنسی میں مسلسل عدم استحکام ہیں۔ ان عوامل کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان علاقائی مسابقت کاروں کا مقابلہ نہیں کر پا رہے، جس کے نتیجے میں 2022 سے برآمدات جمود کا شکار ہیں۔

احمد جواد نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ٹیکس نظام کو معقول بنائے، صنعتی بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کرے، اور روپے کو مستحکم کرنے کے لیے واضح پالیسی اپنائے۔ انہوں نے پی بی ایف کے مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تقریباً 240 روپے پر مستحکم ہونی چاہیے تاکہ مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔

پی بی ایف جنوبی و وسطی پنجاب کے چیئرمین ملک طلعت سہیل نے بتایا کہ کپاس کے شعبے میں 400 سے زائد جننگ فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جس سے کپاس کی ویلیو چین متاثر ہوئی۔ ان کے مطابق مقامی کپاس کے بیج اور آئل کیک پر 18 فیصد جی ایس ٹی کے نفاذ سے لاگت بڑھی اور کسانوں کو مالی نقصان اٹھانا پڑا۔

دیگر متعلقہ خبریں