ملبوسات سیکٹر حکومت کے فیصلوں پر نالاں، چاول کو مراعات، ٹیکسٹائل محروم۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ملبوسات اور ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر نے حکومت کے حالیہ فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، جن کے تحت چاول کے شعبے کو ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ فنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک آف لوکل ٹیکسز اینڈ لیویز کے تحت شامل کیا گیا ہے، جبکہ ملبوسات اور ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
سیکٹر کے مطابق چاول کی برآمدات کا حجم تقریباً 3 ارب ڈالر ہے، تاہم اسے بڑے مالی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر 18 ارب ڈالر کی برآمدات کے باوجود ان سہولیات سے محروم ہے۔
پاکستان ہوزری مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین بابر خان نے کہا کہ حکومت 2014 سے اب تک ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل سیکٹر کے 5 ارب روپے ڈی ایل ٹی ایل کی مد میں ادا کرنے کی پابند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف پالیسیوں کے ذریعے برآمدات میں اضافہ ممکن نہیں، بلکہ پیداواری لاگت میں کمی اور عملی سہولت کاری ضروری ہے۔
انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر برآمدی ایمرجنسی کا اعلان کیا جائے اور تمام برآمدی شعبوں کی نمائندہ تنظیموں پر مشتمل اجلاس طلب کیا جائے۔ بابر خان کے مطابق ملک بھر کے ویلیو ایڈیڈ ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کو اس بات پر شدید تحفظات ہیں کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے تحت ای ڈی ایف اور ڈی ایل ٹی ایل کی سہولیات صرف ایک برآمدی شعبے تک محدود کی جا رہی ہیں۔














