امریکی صدر ٹرمپ کے ‘بورڈ آف پیس’ پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ ماہرین نے اسے عالمی امن کے لیے نقصان دہ اور اقوام متحدہ کے نظام کو ختم کرنے کی کوشش کہا ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ‘بورڈ آف پیس’ پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ معروف ماہرِ معیشت جیفری ڈی ساکس اور سیاسی تجزیہ کار سیبل فارس نے اس منصوبے کو عالمی امن کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے نظام کو ختم کرنے کی کوشش بھی کہا ہے۔
جیفری ڈی ساکس اور سیبل فارس نے اپنے مشترکہ مضمون میں کہا ہے کہ ‘بورڈ آف پیس’ کے مقاصد اقوام متحدہ کے چارٹر میں موجود مقاصد سے ملتے جلتے ہیں، جس کا قیام دوسری جنگ عظیم کے بعد عالمی امن کے قیام کے لیے ہوا تھا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ماضی میں اقوام متحدہ کے خلاف بیانات دیتے رہے ہیں اور انہوں نے کئی اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کی۔
مضمون میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانون کے خلاف کھلے بیانات دیتے رہے ہیں اور انہوں نے درجنوں اقوام متحدہ کے اداروں سے علیحدگی اختیار کی۔ مصنفین کے مطابق حالیہ برسوں میں مختلف ممالک پر کی جانے والی بمباری بھی سلامتی کونسل کی منظوری یا اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جائز دفاع کے زمرے میں نہیں آتی۔
جیفری ڈی ساکس اور سیبل فارس کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ دراصل صدر ٹرمپ کے لیے عالمی سطح پر بالادستی کا حلف ہے، جہاں تمام فیصلے ان کی منظوری سے مشروط ہوں گے۔ مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس بورڈ کا ایگزیکٹو ڈھانچہ ٹرمپ کے قریبی سیاسی اتحادیوں، خاندان کے افراد اور بڑے مالی معاونین پر مشتمل ہوگا، جبکہ رکن ممالک کو ایک ارب ڈالر ادا کر کے مستقل نشست حاصل کرنا پڑے گی۔
مصنفین نے لکھا کہ یہ رقم امن یا فلسطینی عوام کے مسائل کے حل کے لیے نہیں بلکہ امریکی صدر تک عارضی رسائی کے لیے ادا کی جائے گی۔ ان کے مطابق یہ نظام اقوام متحدہ کے اجتماعی فیصلوں کے اصول کے برعکس ہے اور عالمی امن کو شخصی خواہشات کے تابع کرنے کی کوشش ہے۔
مضمون میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر ٹرمپ خود اس بات کا اشارہ دے چکے ہیں کہ ’بورڈ آف پیس‘ مستقبل میں اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے، جو کسی بھی سنجیدہ ریاست کے لیے ناقابلِ قبول ہونا چاہیے۔ مصنفین کے مطابق ایسے کسی فورم میں شمولیت قومی خودمختاری کو ایک فرد کے اختیار کے تابع کرنے کے مترادف ہوگی۔
مضمون میں کہا گیا کہ ‘بورڈ آف پیس’ کا ایگزیکٹو ڈھانچہ ٹرمپ کے قریبی اتحادیوں اور مالی معاونین پر مشتمل ہوگا اور رکن ممالک کو مستقل نشست کے لیے ایک ارب ڈالر ادا کرنا پڑے گا۔
مصنفین نے مزید کہا کہ یہ رقم امن کے حل کے لیے نہیں بلکہ امریکی صدر تک رسائی کے لیے ہوگی، جو کہ اقوام متحدہ کے اجتماعی فیصلوں کے اصول کے برعکس ہے۔











