لاہور میں 11 شیروں کی برآمدگی، وائلڈلائف رینجرز کی کارکردگی پر سوالات

لاہور میں 11 شیروں کی برآمدگی سے وائلڈلائف رینجرز کی کارکردگی پر سوالات اٹھے ہیں۔ ایک بچی کے زخمی ہونے کے بعد ملزمان گرفتار کر لیے گئے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
لاہور میں 11 شیروں کی برآمدگی، وائلڈلائف رینجرز کی کارکردگی پر سوالات

لاہور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) لاہور کے علاقے نواں کوٹ سے غیر قانونی طور پر رکھے گئے 11 شیروں کی برآمدگی نے وائلڈلائف رینجرز پنجاب کی کارکردگی اور نگرانی کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ وائلڈلائف قوانین کے تحت شہری آبادی میں بگ کیٹس رکھنے پر مکمل پابندی ہے۔

یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب نواں کوٹ میں ایک شیرنی کے حملے سے ایک بچی زخمی ہو گئی۔ واقعے کے بعد ملزمان شیرنی سمیت موقع سے فرار ہو گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں کے اندر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

بعد ازاں کارروائی کے دوران نواں کوٹ میں قائم ایک فیکٹری سے مجموعی طور پر 11 شیر برآمد کیے گئے، جن میں پانچ مادہ، تین نر اور تین بچے شامل ہیں۔ ڈپٹی چیف وائلڈلائف رینجرز لاہور عدنان ورک کے مطابق تمام بگ کیٹس کو تحویل میں لے کر لاہور سفاری پارک منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ ملزمان کے خلاف بغیر لائسنس بگ کیٹس رکھنے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بگ کیٹس کچھ عرصہ قبل شیخوپورہ سے لاہور منتقل کی گئی تھیں اور انہیں خفیہ طور پر رکھا جا رہا تھا۔ تاہم عدنان ورک کے مطابق اس بات کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی کہ شیر واقعی شیخوپورہ سے لاہور لائے گئے تھے۔

وائلڈلائف حکام کے مطابق بغیر لائسنس بگ کیٹس رکھنے پر 50 لاکھ روپے تک جرمانہ اور سات سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، جبکہ ایک بگ کیٹ کی سالانہ رجسٹریشن فیس 50 ہزار روپے مقرر ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں