پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کے فیصلے پر حکومتی دفاع اور اپوزیشن کی تنقید کے بعد متضاد ردعمل سامنے آیا ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ ‘بورڈ آف پیس’ میں پاکستان کی شمولیت کا دفاع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی فورمز میں شرکت سے پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کے لئے مضبوط آواز اٹھا سکے گا۔
دفتر خارجہ نے پاکستان کی بورڈ آف پیس میں شمولیت کی تصدیق کی ہے، جس میں انڈونیشیا، اسرائیل، ترکی، مصر، سعودی عرب، قطر، اردن اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔ اس فورم کی سربراہی ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے اور اس کی توجہ غزہ تنازع پر ہوگی۔
دوسری جانب سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس نے اس فیصلے کو ناقابل دفاع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ فلسطینی عوام کے حقوق کو محدود کرتا ہے اور اقوام متحدہ کے کردار کو کمزور کرتا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن، سابق سفیر ملیحہ لودھی اور سابق وزیر شیریں مزاری نے بھی اس فیصلے کو غیر دانشمندانہ قرار دیا ہے۔
سابق سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر نے پارلیمانی بحث کے بغیر فیصلے کو عوامی رائے سے لاتعلقی قرار دیا۔















