بورڈ آف پیس منصوبے پر یورپی اور مسلم ممالک میں اختلاف

امریکی صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس منصوبے پر یورپی اور مسلم ممالک میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں، یورپ نے ہچکچاہٹ جبکہ مسلم ممالک نے شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بورڈ آف پیس منصوبے پر یورپی اور مسلم ممالک میں اختلاف

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس نے یورپ اور مشرق وسطیٰ میں نمایاں تقسیم پیدا کر دی ہے۔ اس منصوبے کے دائرہ کار میں توسیع کے بعد کئی یورپی ممالک نے انکار یا ہچکچاہٹ کا اظہار کیا ہے، جبکہ مسلم اکثریتی ممالک نے شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

ناروے اور سویڈن نے بورڈ آف پیس میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ فرانس پہلے ہی دعوت کو مسترد کر چکا ہے۔ سویڈن اور ناروے کے حکام کے مطابق منصوبے کی وضاحت اور مکالمے کی ضرورت ہے۔ سلووینیا کے وزیراعظم نے بھی خدشات ظاہر کیے ہیں کہ بورڈ کا وسیع مینڈیٹ اقوام متحدہ کے چارٹر پر مبنی نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔

دوسری جانب مصر، انڈونیشیا، اردن، پاکستان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بورڈ میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق تقریباً 30 ممالک کی شمولیت متوقع ہے، جبکہ 50 سے 60 ممالک کو دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بھی فورم پر اختلافات ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نے بورڈ میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے جو ان کے سابقہ مؤقف سے ہٹ کر ہے۔ تاہم اس فیصلے پر اسرائیلی حکومت کے اندر اختلافات سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ بعض سخت گیر اتحادیوں نے بورڈ پر تنقید کی ہے اور غزہ کے مستقبل کے حوالے سے یکطرفہ پالیسی کی وکالت کی ہے۔

ابتدا میں بورڈ آف پیس غزہ جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن اب امریکی انتظامیہ اسے دیگر عالمی تنازعات میں ثالثی کے پلیٹ فارم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ فورم اقوام متحدہ کی جگہ لے سکتا ہے، جو یورپی ممالک کی تشویش کا باعث ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں