بورڈ آف پیس کا چارٹر ظاہر کرتا ہے کہ یہ فورم عالمی امن کے لیے ہے، نہ کہ صرف غزہ کے لیے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) بورڈ آف پیس کے حوالے سے یہ سوال مسلسل اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا یہ فورم صرف غزہ کے تنازعے کے حل کے لیے قائم کیا گیا ہے یا اس کا دائرہ کار اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ بورڈ کے جاری کردہ چارٹر کے مسودے کے مطابق یہ ادارہ کسی ایک خطے یا تنازعے تک محدود نہیں، بلکہ اسے ایک عالمی امن فورم کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے جو مختلف تنازعات میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
چارٹر کے آرٹیکل 1 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بورڈ آف پیس ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو “تنازعات سے متاثرہ یا تنازعے کے خطرے سے دوچار علاقوں میں استحکام، قانونی حکمرانی کی بحالی اور دیرپا امن کے قیام” کے لیے کام کرے گی۔ اسی شق میں یہ بھی درج ہے کہ بورڈ امن سازی کے ایسے طریقۂ کار تیار کرے گا جو تمام ممالک اور کمیونٹیز پر لاگو ہو سکیں۔ اس شق میں کہیں بھی غزہ کو بطور واحد یا مخصوص ہدف ذکر نہیں کیا گیا۔
بورڈ آف پیس کے چارٹر کے مسودے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ فورم صرف غزہ کے تنازعے کے لیے نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ چارٹر کے مطابق، بورڈ کا مقصد تنازعات سے متاثرہ یا خطرے سے دوچار علاقوں میں استحکام اور قانونی حکمرانی کی بحالی ہے۔
چارٹر کی شقوں میں استعمال کی گئی اصطلاحات جیسے ‘تنازعات سے متاثرہ علاقے’ اور ‘امن کے خواہاں تمام قومیں’ اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ بورڈ آف پیس کو ایک مستقل اور کثیرالمقاصد عالمی ادارے کے طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔
اگرچہ عملی اور سیاسی تناظر میں بورڈ آف پیس کا زیادہ تر کام فی الحال غزہ پر مرکوز دکھائی دیتا ہے، تاہم چارٹر میں غزہ بطور واحد تنازعے کا ذکر نہیں۔ یہ نکتہ مسلم دنیا میں خدشات کو جنم دے رہا ہے کہ یہ فورم اقوام متحدہ کے متوازی ایک وسیع عالمی نظام کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔















