تعلیمی بورڈز کا فیسوں میں اضافہ، طلبہ کا احتجاج

تعلیمی بورڈز نے امتحانی فیسوں میں اضافہ کیا، طلبہ نے ‘فیس بم’ قرار دیا، والدین کا احتجاج جاری۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
تعلیمی بورڈز کا فیسوں میں اضافہ، طلبہ کا احتجاج

راولپنڈی: (رائیٹ ناوٴ نیوز)

تعلیمی بورڈز نے مالی بحران سے نمٹنے کے لیے امتحانی فیسوں میں اضافے کا اعلان کیا ہے، جسے طلبہ اور نجی تعلیمی اداروں نے ‘فیس بم’ قرار دیا ہے۔ نئی فیسوں کے تحت سرٹیفکیٹ فیس 550 سے بڑھا کر 1,000 روپے اور متفرق فیس 900 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مد میں بھی رقم وصول کی جا رہی ہے۔

فیسوں میں اضافے کے بعد ایف اے اور ایف ایس سی کے پرائیویٹ امیدواروں کو 7,730 روپے اور ریگولر طلبہ کو 7,570 روپے ادا کرنا ہوں گے۔ نجی تعلیمی اداروں کی تنظیموں نے فیسوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمرے پہلے ہی نصب ہوتے ہیں، اس لیے اضافی بوجھ ڈالنا ناانصافی ہے۔

پنجاب کے تعلیمی بورڈز فیسوں میں اضافے سے 15 ارب روپے تک آمدن حاصل کر سکتے ہیں۔ ہر سال 18 سے 20 لاکھ طلبہ امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، جبکہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کو ملا کر یہ تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔

20 مئی 2026 کو شروع ہونے والے انٹرمیڈیٹ امتحانات کے لیے نظرثانی شدہ فیسوں میں متعدد چارجز شامل ہیں جن میں سی سی ٹی وی فیس 30 روپے، ڈیولپمنٹ چارجز 350 روپے اور اسکالرشپ فیس 250 روپے شامل ہیں۔ والدین نے فیسوں کے اضافے کو مسترد کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مہنگی فیسوں کے باعث غریب خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں