ملک میں 90 فیصد شوگر ملز کی غیر فعالیت سے چینی بحران

ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے چینی کی بڑھتی قیمتوں کو مصنوعی بحران قرار دیتے ہوئے ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن نے چینی کی بڑھتی قیمتوں کو مصنوعی بحران قرار دیتے ہوئے ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے چیئرمین رؤف ابراہیم نے کہا ہے کہ شوگر ملز کی جانب سے کرشنگ مکمل نہ کرنے کے باعث یہ بحران پیدا ہوا ہے۔

رؤف ابراہیم نے بتایا کہ فی الوقت صرف 10 فیصد شوگر ملز کرشنگ کر رہی ہیں جبکہ 90 فیصد ملز نے ابھی تک گنے کی کرشنگ کا آغاز نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر گنے کی مکمل کرشنگ کی جائے تو فی کلو چینی کی قیمت 120 روپے تک آ سکتی ہے، جس سے عوام کو ریلیف ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال گنے کی پیداوار 25 فیصد زیادہ ہوئی ہے، مگر چینی کی قیمت 175 سے 185 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے اور کچھ علاقوں میں یہ 200 سے 210 روپے فی کلوگرام تک فروخت ہو رہی ہے۔

رؤف ابراہیم نے کہا کہ شوگر ملز نے کاشتکاروں سے 350 تا 400 روپے فی من کے خریداری معاہدے کیے ہیں، لیکن کرشنگ نہ کرنے سے کاشتکاروں کی حوصلہ شکنی ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کارٹیلائزیشن کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ چینی کے مصنوعی بحران کو ختم کیا جا سکے۔

دیگر متعلقہ خبریں