روس کے مشرقی خطے کامچاٹکا میں شدید برفانی طوفان کے بعد زندگی معمول پر نہیں آ سکی، برف کی تہہ دو میٹر سے زیادہ ہو چکی ہے۔
ماسکو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) روس کے مشرقی خطے کامچاٹکا میں شدید برفانی طوفان کے بعد نظام زندگی مفلوج ہو گیا ہے۔ دو روز گزرنے کے باوجود برفباری کی شدت کی وجہ سے معمولات زندگی بحال نہیں ہو سکے ہیں۔ برف کی تہہ دو میٹر سے زیادہ ہو چکی ہے جبکہ بعض علاقوں میں برف کے ڈھیر چار میٹر تک بلند ہو گئے ہیں۔
موسمیاتی ماہرین نے اس برفباری کو گزشتہ 60 سے 140 برس کے دوران سب سے شدید قرار دیا ہے، جس نے مقامی انفراسٹرکچر کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ طوفان کے باعث رہائشی علاقوں میں نقصان ہوا ہے، دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
سڑکیں، گاڑیاں اور عمارتیں برف میں دب چکی ہیں اور صفائی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ طوفان نے فضائی اور زمینی نقل و حمل کو معطل کر دیا ہے، پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور شاہراہیں بند ہیں۔
رسد کے نظام میں خلل کی وجہ سے بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔ میونسپل اداروں اور ریسکیو ٹیمیں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں۔ حکام نے عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی ہے۔
حکام کے مطابق یہ طوفان سمندرِ اوخوتسک میں کم دباؤ کے نظام کا نتیجہ تھا۔ بحالی کے عمل میں کئی دن یا ایک ہفتے سے زیادہ لگ سکتا ہے۔












